مسلمانوں کے لیے عید الفطر کا تہوار خوشیوں اور برکتوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے اختتام پر شوال کا چاند دیکھ کر عید منائی جاتی ہے۔ اس سال سعودی عرب میں عید الفطر کی تاریخ کے حوالے سے تمام ابہام دور ہو گئے ہیں۔
سعودی عرب کی سپریم کورٹ اور رویتِ ہلال کمیٹیوں نے ملک بھر میں چاند کی تلاش کے بعد حتمی فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس فیصلے کا اثر نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر پڑتا ہے، کیونکہ بہت سے ممالک سعودی عرب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی عید کی تاریخ کا تعین کرتے ہیں۔
سعودی عرب میں شوال کا چاند: تازہ ترین صورتحال
سعودی عرب میں بدھ، 18 مارچ 2026 کی شام کو شوال کا چاند دیکھنے کی کوشش کی گئی۔ ملک کے مختلف حصوں جیسے تمیر اور سدیر میں ماہرینِ فلکیات اور عام شہریوں نے آسمان پر نظریں جمائے رکھیں، لیکن کہیں سے بھی چاند نظر آنے کی شہادت موصول نہیں ہوئی۔
چاند نظر نہ آنے کے بعد اب یہ طے پا گیا ہے کہ سعودی عرب میں رمضان المبارک کا مہینہ پورے 30 دنوں پر مشتمل ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ جمعرات، 19 مارچ کو آخری روزہ رکھا جائے گا اور یکم شوال المکرم کا آغاز جمعہ سے ہوگا۔
عید الفطر 2026 کی حتمی تاریخ
سعودی حکومت کے سرکاری اعلان کے مطابق:
- آخری روزہ: 19 مارچ 2026 (جمعرات)
- عید الفطر: 20 مارچ 2026 (جمعہ)
یہ اعلان ان لاکھوں تارکینِ وطن کے لیے بھی اہم ہے جو سعودی عرب میں مقیم ہیں اور اپنے گھر والوں کے ساتھ عید کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
سعودی سپریم کورٹ کا طریقہ کار اور شہادتیں
سعودی عرب میں چاند دیکھنے کا عمل انتہائی منظم ہے۔ سپریم کورٹ ہر سال شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے یا دوربین کے ذریعے چاند تلاش کریں اور اگر انہیں چاند نظر آئے تو قریبی عدالت میں اپنی شہادت درج کروائیں۔
اس بار بھی جدید ترین رصد گاہوں (Observatories) کا استعمال کیا گیا، لیکن ماہرینِ فلکیات نے پہلے ہی پیش گوئی کر دی تھی کہ بدھ کی شام چاند نظر آنے کے امکانات بہت کم ہیں، کیونکہ چاند کی پیدائش اور اس کے غروب ہونے کا وقت بصارت کے لیے موزوں نہیں تھا۔
کیا پاکستان میں بھی عید جمعہ کو ہوگی؟
پاکستان میں عید الفطر کا فیصلہ مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کرتی ہے۔ عام طور پر پاکستان میں عید سعودی عرب کے ایک دن بعد منائی جاتی ہے۔ تاہم، اس بار صورتحال دلچسپ ہو سکتی ہے۔
اگر پاکستان میں جمعرات کی شام چاند نظر آ جاتا ہے، تو پاکستان اور سعودی عرب دونوں جگہ عید 20 مارچ بروز جمعہ کو ہوگی۔ اگر چاند نظر نہیں آتا، تو پاکستان میں عید ہفتہ، 21 مارچ کو منائی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق اس بار پاکستان میں بھی 29 روزے ہونے کے امکانات موجود ہیں۔
رمضان کے 30 روزے: ایک روحانی نعمت
اسلامی تقویم (Hijri Calendar) میں مہینہ 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے۔ جب رمضان کا مہینہ 30 دن کا ہو، تو اسے مسلمانوں کے لیے اللہ کی طرف سے ایک اضافی تحفہ سمجھا جاتا ہے تاکہ وہ عبادت کے لیے زیادہ وقت نکال سکیں۔ سعودی عرب میں 30 روزے مکمل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کے لوگوں کو ایک اور رات تراویح اور ذکر و اذکار کا موقع ملے گا۔
عید الفطر کی تیاریاں اور سماجی رنگ
عید الفطر کو ‘میٹھی عید’ بھی کہا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں اس موقع پر روایتی قہوہ، کھجوریں اور مختلف قسم کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ مساجد اور عید گاہوں کو سجایا جاتا ہے اور صبح سویرے نمازِ عید کے بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔
عید الفطر کے موقع پر کرنے والے ضروری کام
عید محض ایک جشن نہیں بلکہ ایک مذہبی فریضہ بھی ہے۔ اس دن کے حوالے سے چند اہم سنتیں اور فرائض درج ذیل ہیں:
- صدقہ فطر کی ادائیگی: عید کی نماز سے پہلے غریبوں کو فطرانہ دینا واجب ہے تاکہ وہ بھی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
- غسل اور نئے لباس: عید کے دن غسل کرنا اور دستیاب بہترین یا نئے کپڑے پہننا سنت ہے۔
- خوشبو کا استعمال: مردوں کے لیے عید کی نماز پر جاتے وقت خوشبو لگانا مستحب ہے۔
- نمازِ عید: عید گاہ جا کر باجماعت نماز ادا کرنا اور خطبہ سننا۔
- ملاقاتیں: رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں سے ملنا اور پرانی رنجشیں ختم کرنا۔
عید الفطر 2026 کے حوالے سے اہم سوالات (FAQs)
1. سعودی عرب میں عید الفطر 2026 کس تاریخ کو ہے؟
سعودی عرب میں عید الفطر 20 مارچ 2026 بروز جمعہ کو منائی جائے گی۔
2. کیا سعودی عرب میں شوال کا چاند نظر آ گیا ہے؟
جی نہیں، بدھ 18 مارچ کو سعودی عرب میں چاند نظر نہیں آیا، جس کی وجہ سے وہاں 30 روزے مکمل کیے جا رہے ہیں۔
3. پاکستان میں عید کب ہونے کا امکان ہے؟
پاکستان میں عید الفطر 20 مارچ یا 21 مارچ کو ہو سکتی ہے۔ حتمی فیصلہ جمعرات کو رویتِ ہلال کمیٹی کے اجلاس میں ہوگا۔
4. صدقہ فطر کب تک ادا کیا جا سکتا ہے؟
صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے تاکہ مستحقین اس سے اپنی عید کی ضروریات پوری کر سکیں۔
خلاصہ:
سعودی عرب میں چاند نظر نہ آنے کے بعد اب تمام نظریں پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک پر لگی ہوئی ہیں۔ جمعہ کا دن عالمِ اسلام کے لیے دوہری خوشی کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ جمعہ خود بھی مسلمانوں کے لیے عید کا دن تصور کیا جاتا ہے۔









