پاکستان میں قومی شناختی دستاویزات کی تیاری اور انتظام کے ذمہ دار ادارے، نادرا (NADRA) نے تمام شہریوں کے لیے ایک اہم انتظامی الرٹ جاری کیا ہے۔ اگر آپ کل یعنی 19 اپریل 2026 کو اپنی کسی شناختی دستاویز، پیدائش کے سرٹیفکیٹ، یا نکاح نامے کے اندراج کے حوالے سے نادرا کی ڈیجیٹل سروسز استعمال کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو یہ خبر آپ کے لیے بہت اہم ہے۔
جدید دور میں نادرا نے اپنی زیادہ تر خدمات کو آن لائن اور موبائل ایپس پر منتقل کر دیا ہے تاکہ شہریوں کو لمبی قطاروں سے بچایا جا سکے۔ تاہم، ان ڈیجیٹل سسٹمز کو محفوظ اور تیز رفتار رکھنے کے لیے وقتاً فوقتاً تکنیکی اپ گریڈیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی سلسلے میں نادرا نے ایک عارضی تعطل کا اعلان کیا ہے جس سے کچھ مخصوص سروسز متاثر ہوں گی۔
نادرا سسٹم اپ گریڈ: اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
کسی بھی بڑے ادارے کا ڈیٹا بیس، خاص طور پر نادرا جیسا حساس ادارہ جو کروڑوں پاکستانیوں کی معلومات سنبھالتا ہے، اسے مسلسل اپ ڈیٹ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ سسٹم اپ گریڈ کرنے کا بنیادی مقصد سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا اور صارفین کو فراہم کی جانے والی سروسز میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔
جب ہم کہتے ہیں کہ “سسٹم اپ گریڈ ہو رہا ہے،” تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نادرا کے بیک اینڈ سرورز پر نئے فیچرز شامل کیے جا رہے ہیں یا موجودہ ڈیٹا کو محفوظ طریقے سے نئے اور بہتر ہارڈ ویئر پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کے دوران ڈیٹا کی منتقلی میں غلطیوں سے بچنے کے لیے سروسز کو عارضی طور پر روکنا لازمی ہوتا ہے۔
19 اپریل 2026: سروسز کے تعطل کا مکمل شیڈول
نادرا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، سروسز کا یہ تعطل پورے دن کے لیے نہیں ہے، بلکہ ایک مخصوص وقت کے لیے ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ درج ذیل اوقات کو نوٹ کر لیں:
- تاریخ: 19 اپریل 2026 (بروز اتوار)
- وقت کا دورانیہ: صبح 10:00 بجے سے شام 6:00 بجے تک
- کل دورانیہ: 8 گھنٹے
اتوار کا دن اس لیے منتخب کیا گیا ہے تاکہ سرکاری دفاتر اور کاروباری اداروں کے لیے کام کرنے والے افراد کم سے کم متاثر ہوں۔ تاہم، وہ لوگ جو چھٹی کے دن اپنے گھر بیٹھے موبائل ایپ کے ذریعے کام مکمل کرنا چاہتے تھے، انہیں اب اپنے شیڈول میں تبدیلی کرنی ہوگی۔
کون سی سروسز اور مراکز متاثر ہوں گے؟
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ نادرا کی تمام سروسز بند نہیں ہو رہی ہیں۔ یہ تعطل صرف مخصوص پلیٹ فارمز اور مخصوص کاموں کے لیے ہے۔
1. پاک آئی ڈی (Pak ID) موبائل ایپ
پاک آئی ڈی ایپ، جو کہ سمندر پار پاکستانیوں اور مقامی شہریوں میں شناختی کارڈ کی تجدید کے لیے بہت مقبول ہے، اس 8 گھنٹے کے دورانیے میں فعال نہیں ہوگی۔ آپ ایپ میں لاگ ان نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی کوئی نئی درخواست جمع کروا سکیں گے۔
2. پاکستان آسان خدمت سنٹر، اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت میں واقع “پاکستان آسان خدمت سنٹر” بھی اس اپ گریڈیشن کے عمل کا حصہ ہوگا۔ یہاں آنے والے شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صبح 10 بجے سے شام 6 بجے کے درمیان یہاں کا رخ نہ کریں، کیونکہ سسٹم آف لائن ہونے کی وجہ سے کوئی بھی درخواست پراسیس نہیں کی جا سکے گی۔
3. صوبائی نظام میں اندراج (Civil Registration)
سب سے اہم بات یہ ہے کہ “صوبائی نظام” سے منسلک تمام اندراجات اس وقت کے دوران معطل رہیں گے۔ اس میں درج ذیل شامل ہیں:
- پیدائش کا اندراج (Birth Registration)
- وفات کا اندراج (Death Registration)
- شادی کا اندراج (Marriage Registration)
- طلاق کا اندراج (Divorce Registration)
اگر آپ ان میں سے کسی بھی سرٹیفکیٹ کے لیے پاک آئی ڈی ایپ یا اسلام آباد خدمت سنٹر استعمال کرنے والے تھے، تو آپ کو شام 6 بجے تک انتظار کرنا ہوگا۔
شہریوں کے لیے اہم ہدایات اور متبادل حل
نادرا کے اس اقدام سے شہریوں کو ہونے والی پریشانی سے بچنے کے لیے ماہرین کچھ مشورے دیتے ہیں:
- وقت سے پہلے کام مکمل کریں: اگر آپ کی کوئی درخواست ادھوری ہے یا آپ نے ابھی شروع کرنی ہے، تو کوشش کریں کہ 19 اپریل کی صبح 10 بجے سے پہلے اسے مکمل کر لیں یا پھر شام 6 بجے کے بعد کا انتظار کریں۔
- اسکرین شاٹ محفوظ رکھیں: اگر آپ نے پہلے ہی کوئی درخواست جمع کرائی ہوئی ہے اور اس کی رسید دیکھنا چاہتے ہیں، تو اس کا اسکرین شاٹ پہلے ہی لے کر رکھ لیں، کیونکہ ایپ بند ہونے پر آپ اپنی رسید نہیں دیکھ سکیں گے۔
- ہیلپ لائن کا استعمال: کسی بھی ہنگامی صورتحال یا معلومات کے لیے نادرا کی ہیلپ لائن 1777 (موبائل سے) ہمیشہ دستیاب ہوتی ہے۔ اگرچہ سسٹم اپ گریڈ ہو رہا ہوگا، لیکن معلوماتی نمائندے آپ کی رہنمائی کے لیے موجود ہو سکتے ہیں۔
نادرا کی ڈیجیٹلائزیشن: ایک بڑا قدم
نادرا نے حالیہ برسوں میں جس طرح خود کو ڈیجیٹلائز کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ اب ایک عام شہری کو اپنے شناختی کارڈ کی تجدید کے لیے دفتر کے چکر نہیں لگانے پڑتے۔ گھر بیٹھے موبائل ایپ کے ذریعے تصویر اپ لوڈ کرنا، فنگر پرنٹس دینا اور فیس جمع کرانا ممکن ہو چکا ہے۔
سسٹم کی یہ عارضی بندش دراصل مستقبل میں مزید بہتر خدمات فراہم کرنے کی ایک کڑی ہے۔ نادرا کا مقصد ایک ایسا “پیپر لیس” ماحول بنانا ہے جہاں ہر پاکستانی اپنی تمام دستاویزات صرف ایک کلک پر حاصل کر سکے۔ اسی لیے، یہ تکنیکی اپ گریڈیشن شہریوں کے اپنے فائدے کے لیے ہے۔
سسٹم بحال ہونے کے بعد کیا کریں؟
جیسے ہی شام کے 6 بجیں گے، نادرا کے سرورز دوبارہ آن لائن ہو جائیں گے۔ تاہم، عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ سروسز بحال ہونے کے فوراً بعد بہت زیادہ ٹریفک کی وجہ سے ایپ یا ویب سائٹ تھوڑی سست ہو سکتی ہے۔
بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ رات 8 یا 9 بجے کے قریب اپنی درخواست پر کام شروع کریں جب سسٹم مکمل طور پر مستحکم ہو چکا ہو۔ نادرا اس سلسلے میں شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتا ہے اور معذرت خواہ ہے کہ اس عمل سے ان کے روزمرہ کے کاموں میں تھوڑی رکاوٹ آئے گی۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)
1. کیا تمام شہروں کے نادرا دفاتر 19 اپریل کو بند رہیں گے؟
جی نہیں، یہ اطلاع خاص طور پر پاک آئی ڈی موبائل ایپ اور اسلام آباد کے پاکستان آسان خدمت سنٹر کے لیے ہے۔ دیگر شہروں کے نادرا مراکز اپنے معمول کے اتوار کے شیڈول (اگر وہ اتوار کو کھلتے ہیں) کے مطابق کام کریں گے، لیکن ڈیجیٹل سسٹم کی بندش سے کچھ کام وہاں بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
2. کیا میں 19 اپریل کو آن لائن فیس جمع کرا سکتا ہوں؟
صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک پاک آئی ڈی ایپ اور آن لائن پورٹل بند رہے گا، اس لیے اس دوران فیس جمع کرانا ممکن نہیں ہوگا۔ فیس کی ادائیگی کے لیے شام 6 بجے کے بعد کا وقت منتخب کریں۔
3. کیا شناختی کارڈ کی ڈیلیوری پر اس کا کوئی اثر پڑے گا؟
سسٹم کی عارضی بندش سے کارڈ کی پرنٹنگ یا ڈیلیوری کے عمل پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔ یہ صرف ڈیٹا انٹری اور رجسٹریشن سروسز کا ایک مختصر تعطل ہے۔
4. کیا نادرا کی ہیلپ لائن اس دوران کام کرے گی؟
جی ہاں، نادرا کی ہیلپ لائن 1777 یا 051-111-786-100 شہریوں کی رہنمائی کے لیے دستیاب رہے گی، تاہم وہ بھی سسٹم اپ گریڈ ہونے کی وجہ سے آپ کے ڈیٹا میں لائیو تبدیلیاں نہیں دیکھ سکیں گے۔
نتیجہ:
نادرا کا سسٹم اپ گریڈ ہونا ایک خوش آئند بات ہے کیونکہ یہ شہریوں کے ڈیٹا کو محفوظ بناتا ہے۔ 19 اپریل 2026 کو ہونے والا یہ 8 گھنٹے کا تعطل صرف ایک عارضی رکاوٹ ہے جس کا مقصد بہتر سروسز کی فراہمی ہے۔ تمام شہری اپنے کاموں کی منصوبہ بندی اسی حساب سے کریں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔









