نادرا شناختی کارڈ اور ب فارم کی تجدید 2026: 30 جون کی ڈیڈ لائن سے پہلے یہ کام لازمی کریں

By: Maryam Malik

On: Wednesday, March 18, 2026 1:49 AM

نادرا شناختی کارڈ اور ب فارم کی تجدید 2026: 30 جون کی ڈیڈ لائن سے پہلے یہ کام لازمی کریں
Google News
Follow Us

پاکستان میں رہنے والے ہر شہری کے لیے اس کی شناخت سب سے قیمتی چیز ہے۔ چاہے بینک میں اکاؤنٹ کھلوانا ہو، موبائل سم لینی ہو یا بیرونِ ملک سفر کرنا ہو، آپ کا قومی شناختی کارڈ (CNIC) ہر جگہ بنیادی ضرورت بنتا ہے۔ حال ہی میں نادرا (National Database and Registration Authority) نے تمام شہریوں کے لیے ایک اہم ترین نوٹس جاری کیا ہے۔

​اس نوٹس کا مقصد شہریوں کو یہ باور کروانا ہے کہ وہ اپنی شناخت سے متعلق تمام دستاویزات کو وقت پر اپ ڈیٹ کر لیں۔ اگر آپ نے اب تک اپنے شناختی کارڈ کی تاریخ نہیں دیکھی یا آپ کے بچوں کا “ب فارم” (B-Form) ابھی تک نہیں بنا، تو یہ آرٹیکل آپ کے لیے بہت اہم ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ نادرا نے کیا نئی ہدایات جاری کی ہیں اور آپ کو 30 جون 2026 سے پہلے کیا کچھ کرنا ہوگا۔

نادرا کی نئی ہدایات: آپ کے لیے جاننا کیوں ضروری ہے؟

​نادرا نے نادرا آرڈیننس 2000 کی دفعہ 30(1)(e) کے تحت ایک عوامی پیغام جاری کیا ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ریاست اپنے ریکارڈ کو مکمل طور پر درست اور جدید بنانا چاہتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی اسے تجدید (Renew) نہیں کرواتے، جس کی وجہ سے انہیں بعد میں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

​حکومت نے اب واضح کر دیا ہے کہ 30 جون 2026 ایک ایسی تاریخ ہے جس سے پہلے آپ کو اپنی تمام کاغذی کارروائی مکمل کرنی ہوگی۔ اس کے بعد نہ صرف آپ کو اضافی فیس دینی پڑ سکتی ہے بلکہ جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔

شناختی کارڈ (CNIC) کی تجدید: تاخیر سے بچیں

​کیا آپ نے کبھی اپنے شناختی کارڈ کے کونے میں لکھی ہوئی “تاریخِ تنسیخ” (Expiry Date) دیکھی ہے؟ اکثر لوگ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نادرا کے مطابق، اگر آپ کا کارڈ ختم ہو چکا ہے یا اگلے چند مہینوں میں ختم ہونے والا ہے، تو اسے فوری طور پر دوبارہ بنوائیں۔

تجدید کیوں ضروری ہے؟

  • بینک اکاؤنٹس: اگر آپ کا شناختی کارڈ ایکسپائر ہو جائے تو بینک آپ کا اکاؤنٹ منجمد (Freeze) کر سکتا ہے۔
  • سرکاری مراعات: بینظیر انکم سپورٹ یا دیگر حکومتی امدادی پروگراموں کے لیے فعال شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہے۔
  • سفر اور جائیداد: کسی بھی قسم کی جائیداد کی خرید و فروخت یا پاسپورٹ بنوانے کے لیے درست کارڈ کا ہونا شرط ہے۔

ب فارم سے شناختی کارڈ تک: نوجوانوں کے لیے اہم قدم

​ہمارے ملک میں ایک عام مسئلہ یہ ہے کہ جب بچے 18 سال کے ہو جاتے ہیں، تو ان کے والدین ان کا شناختی کارڈ بنوانے میں سستی دکھاتے ہیں۔ نادرا نے اپنی نئی مہم میں اس بات پر خصوصی زور دیا ہے کہ جیسے ہی کوئی بچہ 18 سال کا ہو، اس کا “ب فارم” فوری طور پر قومی شناختی کارڈ میں تبدیل کروانا چاہیے۔

​یہ صرف ایک قانونی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس نوجوان کی بطور بالغ شہری شناخت کا آغاز ہے۔ اگر 30 جون 2026 تک 18 سال سے زائد عمر کے بچوں کے شناختی کارڈ نہ بنوائے گئے، تو ان کے والدین کو قانونی جوابدہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بچوں کا اندراج: ب فارم بنوانا اب کیوں لازمی ہے؟

​بہت سے والدین بچوں کی پیدائش کے بعد ان کا ب فارم بنوانے میں سالوں لگا دیتے ہیں۔ نادرا نے اب اس عمل کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اگر آپ کے گھر میں کوئی ایسا بچہ ہے جس کا ابھی تک ب فارم نہیں بنا، تو نادرا سینٹر جا کر اس کا اندراج کروائیں۔

​بچوں کا ب فارم بنوانے کے لیے آپ کو ہسپتال کا پیدائشی سرٹیفکیٹ یا یونین کونسل کا جاری کردہ برتھ سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے۔ یہ دستاویز مستقبل میں بچے کے سکول داخلے اور دیگر ضروریات کے لیے بنیادی پتھر ثابت ہوتی ہے۔

30 جون 2026 کی ڈیڈ لائن اور ممکنہ جرمانے

​نادرا نے اپنی حالیہ مہم میں 30 جون 2026 کی تاریخ کو ریڈ لائن قرار دیا ہے۔ اس کا مقصد عوام کو ایک واضح ٹائم فریم دینا ہے تاکہ وہ آخری لمحات کے رش سے بچ سکیں۔

​اگر آپ اس تاریخ تک اپنے کارڈز کی تجدید نہیں کرواتے تو:

  1. اضافی فیس: نادرا نارمل فیس کے بجائے لیٹ فیس وصول کر سکتا ہے۔
  2. جرمانہ: قانونی دفعات کے تحت نقد جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
  3. خدمات کی معطلی: ممکن ہے کہ آپ کے شناختی کارڈ پر چلنے والی دیگر سہولیات (جیسے سم کارڈ وغیرہ) عارضی طور پر بلاک کر دی جائیں۔

نادرا سینٹر جانے کی ضرورت نہیں؟ آن لائن طریقہ کار

​آج کے دور میں نادرا نے اپنی بہت سی سہولیات آن لائن کر دی ہیں۔ اگر آپ کے پاس انٹرنیٹ ہے، تو آپ “پاک آئیڈنٹیٹی” (Pak Identity) ویب سائٹ یا ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے بہت سے کام کر سکتے ہیں۔

  • تجدید (Renewal): آپ اپنے ختم شدہ کارڈ کی تجدید آن لائن کر سکتے ہیں۔
  • پتہ کی تبدیلی: اگر آپ نے گھر تبدیل کیا ہے، تو اس کی درخواست بھی آن لائن دی جا سکتی ہے۔
  • ہوم ڈیلیوری: نادرا آپ کا نیا کارڈ آپ کے گھر کے پتے پر بھیج دے گا۔

​تاہم، پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے یا بائیومیٹرک (فنگر پرنٹس) کی بڑی تبدیلیوں کے لیے آپ کو ایک بار نادرا سینٹر جانا ہی پڑے گا۔

درخواست دینے سے پہلے ضروری دستاویزات

​نادرا سینٹر جانے سے پہلے اپنی تیاری مکمل رکھیں تاکہ آپ کا وقت ضائع نہ ہو۔ عموماً درج ذیل دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے:

  • ​پرانا اصل شناختی کارڈ (اگر موجود ہو)۔
  • ​اصل ب فارم (اگر 18 سال کے ہونے پر کارڈ بنوا رہے ہیں)۔
  • ​والدین یا شوہر/بیوی کے شناختی کارڈ کی کاپی۔
  • ​میٹرک کی سند یا برتھ سرٹیفکیٹ (تاریخِ پیدائش کی درستی کے لیے)۔

نادرا ہیلپ لائن اور رہنمائی

​اگر آپ کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا ہے یا آپ اپنی درخواست کی صورتحال جاننا چاہتے ہیں، تو نادرا کی ہیلپ لائن 1777 پر کال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی ویب سائٹ پر موجود “لائیو چیٹ” سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

خلاصہ: آج ہی اپنا ریکارڈ چیک کریں

​نادرا کی جانب سے جاری کردہ یہ مودبانہ گزارش دراصل شہریوں کی اپنی بہتری کے لیے ہے۔ شناخت کے دستاویزات کو وقت پر اپ ڈیٹ رکھنا آپ کو مستقبل کی بڑی پریشانیوں سے بچا سکتا ہے۔ 30 جون 2026 ابھی دور لگتی ہے، لیکن وقت پر کام مکمل کرنا ہی عقلمندی ہے۔

​اپنے خاندان کے تمام افراد کے شناختی کارڈز اور ب فارمز نکالیں، ان کی تاریخیں چیک کریں اور اگر ضرورت ہو تو آج ہی نادرا سینٹر یا آن لائن پورٹل سے رجوع کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

1. کیا 30 جون 2026 کے بعد شناختی کارڈ بننا بند ہو جائیں گے؟

جی نہیں، شناختی کارڈ بننا بند نہیں ہوں گے، لیکن اس تاریخ کے بعد تجدید نہ کروانے والوں پر بھاری جرمانہ یا اضافی فیس عائد کی جا سکتی ہے۔

2. کیا میں اپنے بچے کا ب فارم آن لائن بنوا سکتا ہوں؟

فی الحال بچوں کے پہلے اندراج (ب فارم) کے لیے بائیومیٹرک کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے والدین کو ایک بار نادرا سینٹر جانا پڑتا ہے۔

3. اگر میرا شناختی کارڈ گم ہو جائے تو کیا کروں؟

گمشدگی کی صورت میں آپ فوری طور پر نادرا میں “ڈوپلیکیٹ” کارڈ کی درخواست دے سکتے ہیں۔ اس کے لیے ایف آئی آر (FIR) کی ضرورت اب ختم کر دی گئی ہے، آپ صرف ایک بیانِ حلفی دے کر کارڈ بنوا سکتے ہیں۔

4. نادرا کارڈ کی تجدید کی فیس کتنی ہے؟

فیس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کارڈ کتنے دنوں میں حاصل کرنا چاہتے ہیں (نارمل، ارجنٹ، یا ایگزیکٹو)۔ موجودہ فیس کی معلومات نادرا کی ویب سائٹ سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

Maryam Malik Author

Maryam Malik

Maryam Malik is a dedicated Pakistani blogger who writes to help people stay informed about the latest government schemes, public welfare programs, and important national updates. Her goal is to explain complex government policies in simple and easy English so that everyone can understand and benefit from them.

Join WhatsApp

Join Now

Leave a Comment

Get Updates Now