عید الفطر 2026 کے لیے نئے نوٹ: اسٹیٹ بینک کا بڑا اعلان اور نوٹ حاصل کرنے کا مکمل طریقہ

By: Maryam Malik

On: Wednesday, March 18, 2026 1:30 AM

عید الفطر 2026 کے لیے نئے نوٹ: اسٹیٹ بینک کا بڑا اعلان اور نوٹ حاصل کرنے کا مکمل طریقہ
Google News
Follow Us

​پاکستان میں عید الفطر کی تیاریاں جہاں نئے کپڑوں اور پکوانوں کے بغیر ادھوری ہیں، وہیں “عیدی” کی روایت اس تہوار کی جان سمجھی جاتی ہے۔ بچوں کو عیدی دینے کے لیے نئے اور کڑک نوٹوں کا ہونا ایک قدیم روایت ہے جس کا انتظار ہر گھر میں کیا جاتا ہے۔ اسی روایت کو برقرار رکھنے اور شہریوں کی سہولت کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے 2026 کی عید کے لیے نئے نوٹوں کی فراہمی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

​اس بار اسٹیٹ بینک نے ملک بھر کے تمام کمرشل بینکوں کو نئے نوٹوں کی فراہمی یقینی بنائی ہے تاکہ شہریوں کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس مضمون میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ آپ کس طرح قطاروں میں لگے بغیر یا پریشانی سے بچ کر نئے نوٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی نئی پالیسی اور بینکوں کو سپلائی

​اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں سال عید الفطر کے موقع پر نوٹوں کی تقسیم کے نظام کو پہلے سے زیادہ شفاف اور آسان بنانے کی کوشش کی ہے۔ تمام بڑے شہروں سے لے کر دور دراز کے علاقوں تک، بینکوں کی برانچز میں نوٹ پہنچا دیے گئے ہیں۔

​خاص طور پر 100 روپے کے نوٹوں کی مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی سپلائی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 10، 20 اور 50 روپے کے نوٹوں کے پیکٹ بھی وافر مقدار میں فراہم کیے گئے ہیں تاکہ عیدی بانٹنے والوں کو چھوٹے نوٹوں کی کمی محسوس نہ ہو۔

نئے نوٹ حاصل کرنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟

​بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نئے نوٹ حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے، لیکن اگر آپ درست طریقہ کار اپنائیں تو یہ منٹوں کا کام ہے۔ 2026 میں نوٹ حاصل کرنے کے لیے درج ذیل طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں:

1. قریبی بینک برانچ سے رابطہ

​آپ کا اکاؤنٹ کسی بھی بینک میں ہو، آپ اپنی قریبی برانچ میں جا کر نئے نوٹوں کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی ہدایت کے مطابق، کمرشل بینک اپنے صارفین کو نئے نوٹ فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ آپ کو صرف اپنا اصل شناختی کارڈ (CNIC) ساتھ لے جانا ہوگا کیونکہ بینک ریکارڈ کے لیے اس کی فوٹو کاپی طلب کر سکتے ہیں۔

2. منتخب اے ٹی ایم (ATM) کا استعمال

​ٹیکنالوجی کے اس دور میں اب بینکوں نے اے ٹی ایم مشینوں میں بھی نئے نوٹ لوڈ کرنا شروع کر دیے ہیں۔ خاص طور پر عید سے چند روز قبل بڑے شہروں میں اے ٹی ایم سے 500 اور 1000 روپے کے نئے نوٹ آسانی سے نکل رہے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو بینک کی لمبی لائنوں میں نہیں لگنا چاہتے۔

ایس ایم ایس (SMS) سروس کا استعمال

​ماضی کی طرح اس بار بھی اسٹیٹ بینک نے ایک مخصوص ایس ایم ایس سروس کے ذریعے نوٹوں کی بکنگ کا اشارہ دیا ہے۔ اگرچہ یہ سروس رش کو کنٹرول کرنے کے لیے ہوتی ہے، لیکن شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ 8877 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر اور بینک برانچ کوڈ بھیج کر اپنی باری کا انتظار کریں۔

  • ​اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھیں (بغیر ڈیش کے)۔
  • ​اسپیس دیں اور مطلوبہ بینک کا برانچ کوڈ لکھیں۔
  • ​اسے 8877 پر بھیج دیں۔
  • ​آپ کو ایک ٹرانزیکشن نمبر موصول ہوگا جسے دکھا کر آپ نوٹ حاصل کر سکیں گے۔

نئے نوٹوں کی دستیابی اور حد (Quota)

​اسٹیٹ بینک نے نوٹوں کی تقسیم میں انصاف برقرار رکھنے کے لیے ایک “کوٹہ” مقرر کیا ہے۔ عام طور پر ایک شناختی کارڈ پر درج ذیل نوٹوں کے پیکٹ حاصل کیے جا سکتے ہیں:

  • ​10 روپے کا ایک پیکٹ۔
  • ​20 روپے کا ایک پیکٹ۔
  • ​50 یا 100 روپے کا ایک پیکٹ (اسٹاک کی دستیابی کی صورت میں)۔

​یہ حد اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں اور نوٹوں کی مصنوعی قلت پیدا نہ ہو۔

غیر قانونی مارکیٹ اور بلیک میلنگ سے ہوشیار رہیں

​عید کے موقع پر اکثر شہروں کے بڑے چوکوں یا صرافہ بازاروں میں لوگ نئے نوٹوں کے بنڈل فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ نوٹوں کے بدلے اضافی پیسے وصول کرتے ہیں، جو کہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی درست نہیں۔

​اسٹیٹ بینک نے عوام کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں جو نئے نوٹوں کی بلیک میں فروخت میں ملوث ہیں۔ ایسے نوٹوں میں جعلی نوٹ شامل ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ ہمیشہ مستند بینکنگ ذرائع سے ہی نوٹ حاصل کریں تاکہ آپ کے پیسے محفوظ رہیں۔

کرنسی نوٹوں کی حفاظت کے لیے چند مشورے

​نئے نوٹ حاصل کرنے کے بعد ان کی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے۔ عید کے رش میں اکثر نوٹوں پر پانی گرنے یا ان کے مڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔

  • ​نوٹوں کو ہمیشہ سیدھا رکھیں اور انہیں زیادہ تہہ نہ کریں۔
  • ​بچوں کو عیدی دیتے وقت چھوٹے لفافوں (Envelopes) کا استعمال کریں تاکہ نوٹ صاف ستھرے رہیں۔
  • ​نوٹوں پر کچھ لکھنے یا اسٹیپلر (Stapler) کی پن لگانے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے نوٹ کی قانونی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔

عید الفطر 2026 اور معاشی سرگرمیاں

​نئے نوٹوں کا اجرا صرف ایک روایت نہیں ہے بلکہ اس سے ملک میں معاشی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی ہیں۔ جب لوگوں کے پاس نقد رقم ہوتی ہے، تو وہ زیادہ خریداری کرتے ہیں، جس سے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کا کاروبار چمکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا یہ بروقت قدم مارکیٹ میں پیسے کی گردش کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

نتیجہ: بروقت نوٹ حاصل کریں اور خوشیاں بانٹیں

​عید الفطر خوشیاں بانٹنے کا نام ہے اور عیدی اس کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے نئے نوٹوں کی فراہمی شروع کر دی ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ آخری دنوں کے رش سے بچنے کے لیے جلد از جلد اپنے قریبی بینک سے رابطہ کریں اور نئے نوٹ حاصل کریں۔ یاد رہے کہ آپ کا شناختی کارڈ آپ کی کلید ہے، اسے ساتھ رکھنا نہ بھولیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

1. کیا نئے نوٹ حاصل کرنے کے لیے بینک میں اکاؤنٹ ہونا ضروری ہے؟

عام طور پر بینک اپنے کھاتہ داروں کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اسٹیٹ بینک کی پالیسی کے مطابق کوئی بھی شہری اپنا اصل شناختی کارڈ دکھا کر نئے نوٹ حاصل کر سکتا ہے۔

2. کیا 8877 سروس تمام شہروں کے لیے ہے؟

جی ہاں، یہ سروس پورے پاکستان کے لیے ہے جہاں اسٹیٹ بینک کی نامزد کردہ “ای برانچز” موجود ہیں۔

3. اے ٹی ایم سے نئے نوٹ کب تک نکلنا شروع ہوں گے؟

زیادہ تر بینک عید سے 10 سے 15 دن پہلے اپنی مشینوں میں نئے نوٹوں کی فیڈنگ شروع کر دیتے ہیں۔

4. اگر بینک نئے نوٹ دینے سے انکار کرے تو کیا کریں؟

اگر کوئی بینک بغیر کسی ٹھوس وجہ کے نئے نوٹ فراہم نہیں کر رہا، تو آپ اسٹیٹ بینک کے ہیلپ لائن نمبر پر اس کی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

Maryam Malik Author

Maryam Malik

Maryam Malik is a dedicated Pakistani blogger who writes to help people stay informed about the latest government schemes, public welfare programs, and important national updates. Her goal is to explain complex government policies in simple and easy English so that everyone can understand and benefit from them.

Join WhatsApp

Join Now

Leave a Comment

Get Updates Now