برطانوی حکومت نے پہلی بار ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے چار ممالک کے شہریوں کے لیے ویزوں پر “ایمرجنسی بریک” لگا دی ہے۔ ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے ان ممالک کے شہریوں پر برطانیہ کی فراخدلی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی طور پر اسائلم (پناہ) حاصل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
کن ممالک پر پابندی لگائی گئی ہے؟
نئی پالیسی کے تحت درج ذیل چار ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا سہولیات معطل کر دی گئی ہیں:
- افغانستان (اسٹڈی اور ورک ویزا دونوں معطل)
- کیمرون (اسٹڈی ویزا معطل)
- میانمار (اسٹڈی ویزا معطل)
- سوڈان (اسٹڈی ویزا معطل)
ہوم سیکرٹری کے مطابق، ان ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد قانونی راستوں (جیسے کہ طالب علم ویزا) کو برطانیہ میں داخل ہونے اور پھر پناہ کی درخواست دینے کے لیے ایک “چور دروازے” کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
ہوم آفس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اس فیصلے کی بنیاد بنے ہیں:
- 2025 میں پناہ کی درخواست دینے والے 100,000 افراد میں سے 39% وہ تھے جو قانونی ویزوں پر برطانیہ پہنچے تھے۔
- افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے طلباء کی جانب سے اسائلم کی درخواستوں میں 2021 سے ستمبر 2025 کے درمیان سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔
ویزہ پابندیوں کا تقابلی جائزہ (نومبر 2025 – مارچ 2026)
| ملک کا نام | اسٹڈی ویزا (Study Visa) | ورک ویزا (Work Visa) | موجودہ صورتحال |
|---|---|---|---|
| افغانستان | 🚫 معطل | 🚫 معطل | مکمل پابندی اور سخت نگرانی |
| کیمرون | 🚫 معطل | ✅ دستیاب* | صرف تعلیمی ویزوں پر پابندی |
| میانمار | 🚫 معطل | ✅ دستیاب* | صرف تعلیمی ویزوں پر پابندی |
| سوڈان | 🚫 معطل | ✅ دستیاب* |
”برطانیہ ہمیشہ جنگ اور ظلم و ستم سے بھاگنے والوں کو پناہ دے گا، لیکن ہمارے ویزا سسٹم کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ میں اپنی سرحدوں پر نظم و ضبط اور کنٹرول بحال کروں گی۔” — شبانہ محمود، ہوم سیکرٹری
اسائلم سسٹم میں مزید سختیاں
ہوم سیکرٹری نے صرف ویزا پابندیوں پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اسائلم سسٹم کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے:
- عارضی اسٹیٹس: اب سے ہر پناہ گزین کو بتایا جائے گا کہ ان کا اسٹیٹس مستقل نہیں بلکہ صرف 30 ماہ کے لیے عارضی ہے۔
- واپسی کی پالیسی: جن ممالک کو برطانوی حکومت “محفوظ” قرار دے گی، وہاں کے شہریوں کو ان کا وقت پورا ہونے پر واپس جانا ہوگا۔
- ڈیپورٹیشن معاہدے: اس سے قبل انگولا، نمیبیا اور کانگو کے ساتھ بھی اسی طرح کی سختی کے بعد واپسی کے معاہدے طے پائے تھے، جس کے تحت اب وہاں سے لوگوں کو ڈیپورٹ کیا جا رہا ہے۔
سیاسی صورتحال اور دباؤ
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لیبر پارٹی کو حالیہ ضمنی انتخاب (گورٹن اور ڈینٹن) میں تیسرے نمبر پر آنے کے بعد سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ اگرچہ پارٹی کے اندر سے بعض ارکان اور یونینز “نرم پالیسیوں” کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن کیر اسٹارمر کی حکومت نے امیگریشن کنٹرول کو اپنی ترجیح بنا لیا ہے۔
ویزوں پر اس پابندی کا باقاعدہ اطلاق رواں ہفتے جمعرات سے امیگریشن قوانین میں تبدیلی کے ذریعے کر دیا جائے گا۔
نئی اسائلم پالیسی کے کلیدی نکات
برطانوی ہوم آفس کی جانب سے متعارف کرائی گئی دیگر اہم تبدیلیاں درج ذیل ہیں:
- عارضی قیام کی مدت: پناہ گزینوں کو اب مستقل رہائش کے بجائے صرف 30 ماہ (ڈھائی سال) کا عارضی قیام دیا جائے گا۔
- لازمی واپسی: اگر ہوم آفس کسی ملک کو “محفوظ” قرار دے دیتا ہے، تو وہاں کے شہریوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی جائیں گی اور انہیں فوری واپس بھیجا جائے گا۔
- قانونی راستوں کا تحفظ: حکومت کا مقصد ان لوگوں کو روکنا ہے جو طالب علم بن کر برطانیہ آتے ہیں لیکن پہنچتے ہی پناہ کی درخواست دے دیتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال 1: ‘ایمرجنسی بریک’ کا کیا مطلب ہے اور یہ کن لوگوں پر اثر انداز ہوگی؟
جواب: ایمرجنسی بریک کا مطلب ویزا سروس کو فوری طور پر معطل کرنا ہے۔ یہ ان چار ممالک (افغانستان، کیمرون، میانمار، اور سوڈان) کے ان شہریوں پر اثر انداز ہوگی جو تعلیم یا کام کے سلسلے میں نئے ویزے حاصل کر کے برطانیہ آنا چاہتے ہیں۔
سوال 2: کیا ان چار ممالک کے وہ شہری جو پہلے سے برطانیہ میں موجود ہیں، انہیں واپس بھیج دیا جائے گا؟
جواب: فی الحال یہ پابندی نئے ویزا درخواست گزاروں پر ہے۔ تاہم، ہوم سیکرٹری کے نئے اعلان کے مطابق اب ہر پناہ گزین کا اسٹیٹس صرف 30 ماہ (عارضی) ہوگا، جس کے بعد ان کے کیس پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
سوال 3: کیا افغانستان کے شہریوں کے لیے تمام ویزے بند کر دیے گئے ہیں؟
جواب: جی ہاں، افغانستان کے شہریوں کے لیے اسٹڈی (تعلیمی) اور ورک (کام) دونوں اقسام کے ویزے معطل کر دیے گئے ہیں کیونکہ حکومت کا ماننا ہے کہ ان راستوں کا سب سے زیادہ غلط استعمال ہو رہا تھا۔
سوال 4: کیا یہ پابندی مستقل ہے یا عارضی؟
جواب: حکومت نے اسے ‘ایمرجنسی بریک’ قرار دیا ہے، جس کا مقصد سسٹم کو کنٹرول میں لانا ہے۔ اس کے دورانیے کا انحصار ان ممالک کے ساتھ مستقبل کے معاہدوں اور اسائلم کے اعداد و شمار پر ہوگا۔
سوال 5: اگر کسی کا تعلق ‘محفوظ ملک’ سے ہے تو اس کی پناہ کی درخواست کا کیا بنے گا؟
جواب: برطانوی حکومت کی نئی پالیسی کے تحت، اگر کسی شخص کا تعلق ایسے ملک سے ہے جسے برطانیہ ‘محفوظ’ تصور کرتا ہے، تو اسے پناہ نہیں دی جائے گی بلکہ اسے فوری طور پر اپنے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔
سوال 6: کیا یہ پابندی صرف ان چار ممالک تک محدود رہے گی؟
جواب: ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے پہلے ہی انگولا، نمیبیا اور کانگو جیسے ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے اپنے شہریوں کی واپسی میں تعاون نہ کیا تو ان پر بھی اسی طرح کی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔









