پاکستان میں ایندھن کی فراہمی کا بحران اور بڑھتی ہوئی کشیدگی

By: Maryam Malik

On: Friday, March 6, 2026 5:24 AM

پاکستان میں ایندھن کی فراہمی کا بحران اور بڑھتی ہوئی کشیدگی
Google News
Follow Us

اگر آپ حال ہی میں کراچی یا لاہور کے کسی پیٹرول پمپ سے گزرے ہیں، تو آپ نے وہاں ایک عجیب سی بے چینی محسوس کی ہوگی۔ ایک طرف حکومتی عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ ملک میں پیٹرول کا وافر ذخیرہ موجود ہے، تو دوسری طرف پیٹرول بیچنے والے ڈیلرز ایک بالکل مختلف اور تشویشناک کہانی سنا رہے ہیں۔

​اعداد و شمار کے اس تضاد نے کروڑوں پاکستانیوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے کہ آخر سچ کیا ہے؟ کیا واقعی ملک کے پاس ایک ماہ کا ذخیرہ موجود ہے، یا ہم محض چند دنوں کی دوری پر خشک پمپوں کا سامنا کرنے والے ہیں؟ اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں اخباری سرخیوں سے ہٹ کر تیل کی ترسیل، عالمی تنازعات اور مقامی تقسیم کے نظام کو سمجھنا ہوگا۔

​14 دن کا انتباہ: ڈیلرز کیوں پریشان ہیں؟

​پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (PPDA) نے حال ہی میں ایک چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کے سرکاری اعداد و شمار کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نمبرز گمراہ کن ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے پاس 28 دن کا “پرسکون” ذخیرہ ہے، جبکہ ڈیلرز کے مطابق زمینی حقیقت صرف 14 دن کی رہ گئی ہے۔

​سوال یہ ہے کہ دونوں کے اعداد و شمار میں اتنا بڑا فرق کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ “کاغذی اسٹاک” اور “دستیاب اسٹاک” کا فرق ہے۔

  • کاغذی اسٹاک: یہ وہ کل تیل ہے جو ملک کی حدود میں موجود ہے، بشمول وہ تیل جو بندرگاہوں پر بڑے ٹینکوں میں پڑا ہے۔
  • دستیاب اسٹاک: یہ وہ ایندھن ہے جس کی ادائیگی ہو چکی ہے اور وہ مقامی پیٹرول پمپس تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔

​ڈیلرز کے مطابق، ترسیل کا نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ اگر تیل بندرگاہ پر موجود بھی ہو لیکن پمپ تک نہ پہنچ رہا ہو، تو عام شہری کے لیے وہ قلت ہی کہلائے گی۔

​عالمی حالات اور پاکستان پر اثرات

​پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل درآمد کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہم عالمی حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔ 2026 کے آغاز میں کئی ایسے عوامل جمع ہو گئے جنہوں نے توانائی کے شعبے پر دباؤ بڑھا دیا ہے:

​1. آبنائے ہرمز کی بندش کا خطرہ

​مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے “آبنائے ہرمز” (Strait of Hormuz) سے تیل لانے والے جہازوں کی آمد سست ہو گئی ہے۔ جب جہاز تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، تو ملک میں موجود ذخیرہ تیزی سے کم ہونے لگتا ہے۔

​2. درآمدی اخراجات میں اضافہ

​تیل لانے والے جہازوں کے کرائے اور انشورنس کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ اس مالی بوجھ کی وجہ سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے لیے نیا تیل خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

​3. ایرانی پیٹرول کی بندش

​ماضی میں ایران سے غیر رسمی طور پر آنے والا پیٹرول اور ڈیژل مارکیٹ میں ایک “بفر” کا کام کرتا تھا۔ اب بارڈر کنٹرول سخت ہونے کی وجہ سے سارا بوجھ قانونی سپلائی چین پر آ گیا ہے، جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔

​”کوٹہ سسٹم” کا تنازع

​سپلائی کو سنبھالنے کے لیے حکومت نے ایک نیا طریقہ کار اپنایا ہے۔ اب پیٹرول پمپس کو ان کی مرضی کے مطابق تیل نہیں مل رہا، بلکہ گزشتہ آٹھ ماہ کی اوسط فروخت کے حساب سے “کوٹہ” دیا جا رہا ہے۔ اس سے کئی مسائل پیدا ہو رہے ہیں:

  • اچانک مانگ میں اضافہ: اگر کسی علاقے میں آبادی بڑھ گئی ہے یا کوئی مقامی تقریب ہے، تو پرانی اوسط کے مطابق ملنے والا تیل جلد ختم ہو جاتا ہے۔
  • خوف اور ہنگامی خریداری: جب عوام میں قلت کی افواہ پھیلتی ہے، تو ہر کوئی ٹینک فل کروانے کی کوشش کرتا ہے، جس سے تین دن کا اسٹاک چند گھنٹوں میں ختم ہو جاتا ہے۔
  • سیکیورٹی کے خدشات: ڈیلرز نے سندھ پولیس سے سیکیورٹی مانگی ہے تاکہ پمپس پر عوام کے غصے اور لڑائی جھگڑے سے بچا جا سکے۔

​ریفائنری اور مارکیٹنگ کمپنیوں کا جھگڑا

​صرف ڈیلرز ہی نہیں، بلکہ آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن (OMAP) بھی مقامی ریفائنریز سے نالاں ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ریفائنریز اپنے وعدے کے مطابق تیل فراہم نہیں کر رہیں، جس کی وجہ سے کمپنیوں کو اپنے ہنگامی ذخائر (21-day reserve) استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔

​حکومت کیا کر رہی ہے؟

​اوگرا (OGRA) مسلسل عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کر رہا ہے۔ صورتحال کو سنبھالنے کے لیے کچھ اہم اقدامات زیر غور ہیں:

  • بچت کی مہم: ایندھن بچانے کے لیے ورک فرام ہوم (گھر سے کام) اور آن لائن کلاسز کی تجویز دی گئی ہے۔
  • ہفتہ وار قیمتیں: قیمتوں کا تعین اب ہر 15 دن کے بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جائے گا تاکہ عالمی مارکیٹ کے اثرات کو فوری مانیٹر کیا جا سکے۔
  • متبادل راستے: پاکستان سعودی عرب سے بحیرہ احمر (Red Sea) کے ذریعے تیل منگوانے پر بات کر رہا ہے تاکہ خطرناک سمندری راستوں سے بچا جا سکے۔

​نتیجہ: صبر اور احتیاط کی ضرورت

​پاکستان کا توانائی کا شعبہ اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ جہاں حکومت کا دعویٰ تکنیکی طور پر درست ہو سکتا ہے، وہیں ڈیلرز کی سپلائی کی شکایت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس بحران کا حل صرف یقین دہانیوں میں نہیں بلکہ ترسیل کے نظام کو ٹھیک کرنے میں ہے۔ شہریوں کے لیے فی الحال بہترین مشورہ یہی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر ایندھن ذخیرہ کرنے سے گریز کریں اور صرف ضرورت کے مطابق خریداری کریں۔

​اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)

1. کیا واقعی 14 دن بعد پیٹرول ختم ہو جائے گا؟ نہیں، 14 دن کا مطلب وہ اسٹاک ہے جو اس وقت پمپس تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔ حکومت کے پاس پورٹس پر مزید ذخیرہ موجود ہے جو آہستہ آہستہ سسٹم میں لایا جا رہا ہے۔

2. کچھ پیٹرول پمپس کیوں بند ہیں؟ زیادہ تر پمپس اپنا “روزانہ کا کوٹہ” ختم ہونے کی وجہ سے بند ہوتے ہیں یا پھر سپلائی لانے والے ٹینکر کی تاخیر کی وجہ سے۔

3. کیا قیمتیں مزید بڑھیں گی؟ چونکہ عالمی سطح پر خام تیل مہنگا ہو رہا ہے اور فریٹ چارجز بڑھ رہے ہیں، اس لیے آنے والے ہفتوں میں قیمتوں میں اضافے کا امکان موجود ہے۔

4. کیا میں گھر میں پیٹرول جمع کر سکتا ہوں؟ ہرگز نہیں! گھر میں پیٹرول رکھنا انتہائی خطرناک ہے اور یہ آگ لگنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ذخیرہ اندوزی سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے۔

Maryam Malik Author

Maryam Malik

Maryam Malik is a dedicated Pakistani blogger who writes to help people stay informed about the latest government schemes, public welfare programs, and important national updates. Her goal is to explain complex government policies in simple and easy English so that everyone can understand and benefit from them.

Join WhatsApp

Join Now

Leave a Comment

Get Updates Now